اشراق، چاشت، اوابین کی نماز کا وقت، رکعات اور فضیلت
یہ وہ نماز ہے کہ جو طلوع آفتاب کے بعد ادا کی جاتی ہے نیز اس کو نمازِ اشراق اور صلاۃ الاوابین بھی کہتے ہیں۔
➊ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے خلیل (نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) نے مجھے تین چیزوں کی وصیت کی: ”ہر ماہ تین دنوں کے روزے رکھنا: «وركعتي الضحي» ”چاشت کی دو رکعتیں پڑھنا“ اور سونے سے پہلے وتر پڑھ لینا۔“
[بخاري: 1981، كتاب الصوم: باب صيام أيام البيض ثلاث عشرة و أربع عشرة، مسلم: 721، ابو داود: 1432، ترمذي: 760، نسائي: 1677]
➋ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نمازِ چاشت کی حفاظت بہت زیادہ رجوع کرنے والا شخص (یعنی أواب) ہی کرتا ہے اور یہی «صلاة الأوابين» ہے۔“
[صحيح: الصحيحه: 1994، ابن خزيمة: 1224، حاكم: 314/1]
➌ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: تمہارا رب فرماتا ہے کہ اے ابن آدم! دن کی ابتدا میں چار رکعتیں پڑھو میں تمہیں دن کی انتہاء میں کافی ہو جاؤں گا۔
[صحيح: صحيح ترمذى: 1146، كتاب الصلاة: باب ما جاء فى صلاة الضحى، ترمذي: 475، أبو داود: 1289، أحمد: 286/5، ابن حبان: 3533، دارمي: 338/1]
➍ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک کے تمام جوڑوں پر صبح صدقہ کرنا لازم ہوتا ہے۔ پس پر تسبیح صدقہ ہے، ہر تحمید صدقہ ہے، ہر تہلیل صدقہ ہے، ہر تکبیر صدقہ ہے، اچھی بات کا حکم اور برائی سے روکنا صدقہ ہے۔ «ويجزئ من ذلك ركعتان يركعهما من الضحي» ”ان تمام صدقوں سے نماز چاشت کی دو رکعتیں کفایت کر جاتی ہیں۔“
[مسلم: 720، كتاب صلاة المسافرين وقصرها: باب استحباب صلاة الضحى .......، أبو داود: 1286، أحمد: 167/5]
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کے تین سو ساٹھ (360) جوڑ ہیں اور ہر جوڑ پر صدقہ ہے اور نماز چاشت کی دو رکعتیں ان تمام صدقوں سے کفایت کر جاتی ہیں۔ [مسلم: 1007]
یہ تمام احادیث «صلاة الضحى» یعنی نمازِ چاشت کی مشروعیت کا واضح ثبوت ہیں۔
نماز چاشت کا وقت:
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «صلاة الأوابيـن حـيـن تــرمــض الـفـصــال» ”اوابین کی نماز (یعنی نمازِ چاشت) اس وقت ہے جب شدتِ گرمی کی وجہ سے اونٹ کے پاؤں جلتے ہیں۔“
[مسلم: 747، كتاب صلاة المسافرين وقصرها: باب صلاة الأوابين، بيهقى: 49/3، ابن خزيمة: 1227]
یاد رہے کہ نمازِ چاشت کا وقت طلوع آفتاب سے لے کر دوپہر زوال سے پہلے تک ہے۔
نماز چاشت کی رکعتوں کی تعداد۔
➊ اس نماز کی کم از کم دو رکعتیں ہیں جیسا کہ پیچھے حدیث میں یہی بات گزری ہے۔ [بخاري: 1981]
➋ چار رکعتیں پڑھنا بھی ثابت ہے جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث میں ہے۔
[مسلم: 719، ابن ماجه: 1381، طيالسي: 1571، عبد الرزاق: 4853، أبو عوانة: 267/2]
➌ آٹھ رکعتیں پڑھنا بھی مشروع ہے جیسا کہ حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا سے مروی روایت میں ہے۔
[بخاري: 357، كتاب الصلاة: باب الصلاة فى الثوب الواحد ملتحفا به، مسلم: 336، أبو داود: 1290، نسائي: 126/1، ترمذي: 2734، ابن ماجة: 1379]
➍ جس روایت میں ہے کہ ”جس شخص نے نماز چاشت کی بارہ رکعتیں پڑھیں اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت میں محل بنایا جائے گا، وہ ضعیف ہے۔“
[ضعيف: ضعيف ترمذي: 70، كتاب الصلاة: باب ما جا فى صلاة الضحى، ترمذي: 473]
حافظ ابن حجرؒ نے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے۔
شیخ محمد صجی حلاق نے بھی اسے ضعیف کہا ہے۔ [التعليق على سبل السلام: 62/3]
[فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 452
فوائد و مسائل، تحت الحديث سلسله احاديث صحيحه 486
نماز، جسم کے جوڑوں کا ٹیکس ادا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے
«. . . - يصبح على كل سلامى من أحدكم صدقة، فكل تسبيحة صدقة وكل تحميدة صدقة وكل تهليلة صدقة وكل تكبيرة صدقة وأمر بالمعروف صدقة ونهي عن المنكر صدقة، ويجزئ من ذلك ركعتان يركعهما من الضحى . . .»
”. . . سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر شخص کے ہر عضو پر صدقہ (واجب) ہے، ہر مرتبہ «سبحان الله» کہنا صدقہ ہے اور ہر مرتبہ «الحمدلله» کہنا صدقہ ہے اور ہر مرتبہ «لا إله إلا الله» کہنا صدقہ ہے اور ہر مرتبہ «الله اكبر» کہنا صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے اور برائی سے روکنا صدقہ ہے اور ان سب سے وہ دو رکعتیں کافی ہو جائیں گی جو کوئی شخص چاشت کے وقت ادا کرے گا . . .“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة: 486]
� فوائد و مسائل
دوسری احادیث میں وضاحت کر دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو تین سو ساٹھ (360) جوڑ عطا کئے ہیں۔ غور کرنا چاہئے کہ جوڑ اللہ تعالیٰ کی کتنی بڑی نعمت ہے، اگر ہڈیوں کے جوڑ سلب کر لیے جائیں تو انسان کا جینا دو بھر ہو جائے گا، کھانے پینے کے معاملے میں اس کا انحصار دوسروں پر ہو گا، قضائے حاجت کے معاملہ میں وہ کسی کا محتاج ہو گا، چلن پھرن، اٹھک بیٹھک، غرضیکہ وہ ہر چیز میں دوسروں کی نظر کرم اور دست شفقت کا منتظر ہو گا۔ لیکن کیا ہم ان عظیم نعمتوں کا شکریہ ادا کر رہے ہیں یا دن بدن اللہ تعالیٰ کے مقروض بنتے جا رہے ہیں؟ صرف دو رکعتوں سے 360 جوڑوں کا ٹیکس ادا ہو جاتا ہے۔
[سلسله احاديث صحيحه شرح از محمد محفوظ احمد، حدیث/صفحہ نمبر: 486]
فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1285
نماز الضحیٰ (چاشت کی نماز) کا بیان۔
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن آدم کے ہر جوڑ پر صبح ہوتے ہی (بطور شکرانے کے) ایک صدقہ ہوتا ہے، اب اگر وہ کسی ملنے والے کو سلام کرے تو یہ ایک صدقہ ہے، کسی کو بھلائی کا حکم دے تو یہ بھی صدقہ ہے، برائی سے روکے یہ بھی صدقہ ہے، راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹا دے تو یہ بھی صدقہ ہے، اپنی بیوی سے صحبت کرے تو یہ بھی صدقہ ہے البتہ ان سب کے بجائے اگر دو رکعت نماز چاشت کے وقت پڑھ لے تو یہ ان سب کی طرف سے کافی ہے ۱؎۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: عباد کی روایت زیادہ کامل ہے اور مسدد نے امر و نہی کا ذکر نہیں کیا ہے، ان کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ فلاں اور فلاں چیز بھی صدقہ ہے اور ابن منیع کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہم میں سے ایک شخص اپنی (بیوی سے) شہوت پوری کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے؟ آپ نے فرمایا: ”(کیوں نہیں) اگر وہ کسی حرام جگہ میں شہوت پوری کرتا تو کیا وہ گنہگار نہ ہوتا ۲؎؟۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1285]
1285۔ اردو حاشیہ:
سورج طلوع ہوتے ہی جو نماز پڑھی جائے وہ ”اشراق“ اور جو سورج کے قدرے بلند ہونے پر پڑھی جائے ”ضحیٰ“ (چاشت) کہلاتی ہے، حقیقت میں یہ ایک ہی نماز ہے، اس کی کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ آٹھ رکعات ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1285]
فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1671
حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک جوڑ جوڑ (ہر جوڑ) پر صبح کو صدقہ ہے۔ پس ایک دفعہ (سُبْحَا نَ اللهِ) کہنا صدقہ ہے اور (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ) کہنا بھی صدقہ ہے اور (لَااِلٰهَ اِلَّا الله) کہنا صدقہ ہے (اَللهُ اَكْبَر) کہنا بھی صدقہ ہے، کسی کو نیکی کی تلقین کرنا صدقہ ہے اور کسی کو برائی سے روکنا بھی صدقہ ہے اور ان تمام امور کی جگہ دو رکعت نماز جو انسان چاشت کے وقت پڑھتا ہے کفایت کرتی ہیں۔“[صحيح مسلم، حديث نمبر:1671]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
صبح کو انسان جب اس حالت میں اٹھتا ہے کہ اس کا ہر عضو اور اس کا ہر جوڑ صحیح سلامت ہے تو اس پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے جو اس کا تقاضا کرتا ہے کہ انسان ہر جوڑ کی طرف سے شکرانہ کے طور پر صدقہ کرے اور ہر نیکی اور اجرو ثواب کا کام صدقہ بن سکتا ہے اور اگر انسان ہر روز صبح کو چاشت کی دو رکعت نماز پڑھ لے تو ہر جوڑ کی طرف سے شکرانہ ادا ہو جاتا ہے کیونکہ نماز ایک ایسی عبادت ہے جس میں انسان کا ہر عضو اور ہر جوڑ حصہ لیتا ہے۔
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر بالغ انسان کو ہر دن صبح کم ازکم دو رکعات اپنی صحت و سلامتی کے شکرانہ کے طور پر پڑھ لینی چاہئیں تاکہ اللہ تعالیٰ اس کی صحت و سلامتی کو برقرار رکھے اور اس کا ہر عضو اور ہر جوڑ شر وفساد اور توڑ پھوڑ سے محفوظ رہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1671]
فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2329
حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ ساتھیوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سرمایہ دار اجرو ثواب لے گئے وہ ہماری طرح نماز پڑھتے ہیں ہماری طرح روزے رکھتے ہیں اور ضرورت سے زائد مالوں کو خرچ کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے صدقہ کرنے کی صورت نہیں پیدا کی؟ ایک دفعہ سُبحَانَ اللہ کہنا صدقہ ہے اور ایک دفعہ اللہ اکبر کہنا صدقہ ہے... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:2329]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
دثور:
دثر کی جمع ہے مال کثیر کو کہتے ہیں۔
فوائد ومسائل:
شریعت کی مقرر کردہ حددود کے مطابق جو کام بھی کیا جائے بشرطیکہ مقصود شریعت کی پابندی اور اپنے فریضہ کی ادائیگی ہو تو ہر کام اجرو ثواب کا باعث ہے حتی کہ طبعی اور جنسی ضرورت کو پورا کرنا بھی۔
صحیح نیت کی صورت میں ثواب کا باعث ہے جیسا کہ شریعت کی حدود و قیود کو پامال کرنا اور ان کی خلاف ورزی کرنا گناہ اور نقصان کا سبب ہے۔
اس طرح نیکی کا ہر کام اور عمل ذکر واذکار امربالمعروف اور نہی عن المنکر بھی صدقہ ہے یعنی اجرو ثواب کا سبب ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2329]

No comments:
Post a Comment