تکبیرات کے ایام
ذی الحجہ کی ایک(1)تاریخ سے لیکر ذی الحجہ کی تیرہ(13)تاریخ کی شام تک تکبیر کہنا مشروع ہے ۔
دلائل ملاحظہ ہوں:
✿ عشرہ ذی الحجہ میں تکبیرات :
”عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ: «ما من أيام العمل الصالح فيهن أحب إلى الله من هذه الأيام العشر» ، فقالوا: يا رسول الله، ولا الجهاد في سبيل الله؟ فقال رسول الله ﷺ: «ولا الجهاد في سبيل الله، إلا رجل خرج بنفسه وماله فلم يرجع من ذلك بشيء» “
”عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”ذی الحجہ کے دس دنوں کے مقابلے میں دوسرے کوئی ایام ایسے نہیں جن میں نیک عمل اللہ کو ان دنوں سے زیادہ محبوب ہوں“ ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں؟ آپ ﷺنے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں، سوائے اس مجاہد کے جو اپنی جان اور مال دونوں لے کر اللہ کی راہ میں نکلا پھر کسی چیز کے ساتھ واپس نہیں آیا“ [سنن الترمذي رقم 757 وإسناده صحيح صرح الأعمش بالسماع عند الطيالسي]
مسند احمد میں ابن عمر سے مروی اسی حدیث کے اخیر میں یہ اضافہ بھی ہے:
”فأكثروا فيهن من التهليل ، والتكبير ، والتحميد“[مسند أحمد ط الميمنية: 2/ 75]
لیکن اس کی سند ”يزيد بن أبي زياد“ کے سبب ضعیف ہے ، اور اس اضافہ والی کوئی بھی روایت سندا صحیح نہیں ہے۔
البتہ اصل صحیح حدیث میں ”العمل الصالح“ کا جوعموم ہے اس میں ”تکبیرات“ کہنا بھی شامل ہے بلکہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے عملا ان دنوں میں تکبیرات کہنا ثابت ہے چنانچہ:
أبو عبد الله محمد بن إسحاق الفاكهي (المتوفى: 272) نے کہا:
”حدثني إبراهيم بن يعقوب، عن عفان بن مسلم، قال: ثنا سلام بن سليمان أبو المنذر القارئ، قال: ثنا حميد الأعرج، عن مجاهد، قال: كان أبو هريرة وابن عمر رضي الله عنهما يخرجان أيام العشر إلى السوق، فيكبران، فيكبر الناس معهما، لا يأتيان السوق إلا لذلك“
”مجاہد فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ اورابن عمر رضی اللہ عنہما عشرہ ذی الحج میں بازار جاتے اور تکبیر پڑھتے تھے ان کے ساتھ لوگ بھی تکبیر پڑھتے ، یہ دونوں صحابہ اسی مقصد کے لئے بازار آتے تھے“ [أخبار مكة للفاكهي 2/ 372 ، رقم 1704 وإسناده حسن وعلقه البخاري في صحيحه]
نوٹ:-
واضح رہے کہ اس سے اجتماعی تکبیر کی یہ شکل ثابت نہیں ہوتی ہے کہ ایک شخص ایک صیغہ سے تکبیر کہے پھر سارے لوگ اس کے ساتھ اسی صیغے سے اجتماعی تکبیر کہیں ، کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے دیگر آثار میں جو صیغے مروی ہیں وہ الگ الگ ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے وہ بازار وغیرہ میں جب ایک ساتھ پڑھتے تھے تو صرف وقت ایک ہوتا تھا لیکن صیغہ اور انداز سب کا الگ الگ ہوتا تھا ۔
✿ ایام تشریق میں تکبیرات:
ایام تشریق یعنی گیارہ ، بارہ اور تیرہ ذی الحجہ کو بھی تکبیرات کہنا مشروع ہے ، دلائل ملاحظہ ہوں:
”عن نبيشة الهذلي، قال: قال رسول الله ﷺ: «أيام التشريق أيام أكل وشرب وذكر لله» “
”نبیشہ ھذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:تشریق کے دن کھانے ، پینے اوراللہ کے ذکر کے دن ہیں“ [صحيح مسلم 3/ 800 ،رقم 1141]
اس حدیث میں وارد ”ذکر“ کے اندر ”تکبیر“ بھی شامل ہے ، نیز متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ایام تشریق میں تکبیرات کہنے کا ثبوت ملتا ہے ، چنانچہ:
◈ امام ابن أبي شيبة رحمه الله (المتوفى235)نے کہا:
”حدثنا يحيى بن سعيد القطان، عن أبي بكار، عن عكرمة، عن ابن عباس: أنه كان يكبر من صلاة الفجر يوم عرفة إلى آخر أيام التشريق، لا يكبر في المغرب“
”ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ عرفہ کے دن نماز فجر کی صبح سے تشریق کے آخری دن تک تکبیر کہتے تھے ، اور مغرب میں نہیں کہتے تھے“ [مصنف ابن أبي شيبة، ت الشثري: 4/ 212 ، رقم 5764 وإسناده صحيح]
◈ امام ابن أبي شيبة رحمه الله (المتوفى235)نے کہا:
”حدثنا حسين بن علي، عن زائدة، عن عاصم، عن شقيق، عن علي أنه كان يكبر بعد صلاة الفجر يوم عرفة إلى صلاة العصر من آخر أيام التشريق، ويكبر بعد العصر“
”علی رضی للہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ عرفہ کے دن نماز فجرکے بعد سے لیکر تشریق کے آخری دن عصر تک تکبیر کہتے تھے اورعصر کے بعد بھی تکبیر کہتے تھے“ [مصنف ابن أبي شيبة، ت الشثري: 4/ 209وإسناده حسن]
تنبیہ:
ان آثارکا بعض نے یہ مطلب سمجھا لیا کہ یوم عرفہ سے لیکر تشریق کے آخری دن تک ہی تکبیر کہنا ہے ، یعنی یکم ذی الحج سے لیکر یوم عرفہ تک تکبیرات کہنا درست نہیں ، بلکہ بعض نے تواسے بدعت تک کہا ہے چنانچہ:
امام ابن أبي شيبة رحمه الله (المتوفى235)نے کہا:
”حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن شعبة، قال: سألت الحكم وحمادا عن التكبير أيام العشر؟ فقالا: محدث“
”امام شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے ”حکم بن عتیبہ“ اور ”حماد بن ابی سلیمان“ سے ایام عشرہ ذی الحج میں تکبیرات سے متلعق پوچھا تو انہیں نے کہا: یہ نئی ایجاد کردہ چیز ہے“ [مصنف ابن أبي شيبة، ت الشثري: 8/ 198 رقم14462 وإسناده صحيح ]
عرض ہے کہ:
مذکورہ آثار میں کثرت اہتمام بتلانا مقصود ہے ، یعنی یہ صحابہ نسبتا ان دنوں میں تکبیرات کا زیادہ اہتمام کرتے تھے ۔
جیسے ابن عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ روایت ہے کہ:
”أن ابن عمر كان يغدو إلى العيد من المسجد ، وكان يرفع صوته بالتكبير حتى يأتى المصلى ويكبر حتى يأتى الإمام“
”عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ مسجد سے عیدگاہ کے لئے نکلتے اور تکبیر کے ساتھ اپنی آواز بلند کرتے یہاں تک عید گاہ پہنچ جاتے ، پھر تکبیر کہتے رہتے جب تک کہ امام آنہ جائے“ [السنن الكبرى للبيهقي، ط الهند: 3/ 279 وإسناده صحيح]
ظاہر ہے کہ اس روایت کی بناپر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ صرف عید کے دن ہی تکبیر کہتے تھے ، اور اس سے قبل پورے عشرہ میں تکبیر نہیں کہتے تھے ! بلکہ مطلب صرف یہ ہے کہ عید کے دن تکبیر کا اہتمام زیادہ ہوتا تھا ، نیزاوپر ایک صریح روایت گذرچکی ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ عشرہ ذی الحج میں بھی بازار جا کر تکبیر کہتے تھے

No comments:
Post a Comment